5th Jan,Youm-e-Haq-e-Khud Iradiyat

5th Jan,Youm-e-Haq-e-Khud Iradiyat

میرپور(پی آئی ڈی)05 جنوری 2022
وائس چانسلر مسٹ ڈاکٹر یونس جاوید(ستارہ امتیاز) اور ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر عمر اعظم نے کہاہے کہ اقوام متحدہ نے 05 جنوری 1949 کو کشمیریوں کے مسلمہ حق خودارادیت کو تسلیم کرتے ہوتے ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو حق دیا تھا کہ وہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں لیکن 75 سال گزرنے کے بعد بھی کشمیری قوم کو اس مسلمہ حق سے محروم رکھا گیا۔ مسئلہ کشمیرکے حل کے لیے پاک بھارت تین جنگیں ہوچکی ہیں۔ پاکستان ہمیشہ سے کشمیریوں کے ساتھ کھڑاہے۔ مسئلہ کشمیرنہ ہوتاتوآج پاکستان دنیاکی ایٹمی قوت نہ ہوتا۔یونیورسٹی طلباء وطالبات مسئلہ کشمیرکواجاگرکرنے کے لیے اپنا بھرپورکرداراداکریں، قوموں کی آزادی میں طویل جدوجہد اور قربانیاں دیناپڑتی ہیں۔ افغانستان اور ویت نام کے لوگوں نے اپنی آزادی کے لیے دنیا کی سپرطاقتوں کوشکست دی ہے۔ کشمیریوں نے تحریک آزادی کشمیرکی کامیابی کے لیے جوطویل جدوجہد اور قربانیاں دی ہیں ان کوسامنے رکھتے ہوئے کسی مرحلہ پرمایوسی کاشکارنہیں ہوناچاہیے،کشمیریوں کو ضرور آزادی ملے گی اورکشمیرآزادہوکرپاکستان کاحصہ بنے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسٹ یونیورسٹی کے زیر اہتمام یوم حق خودارادیت کے موقع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سمینار کی صدارت وائس چانسلر مسٹ ڈاکٹر یونس جاوید(ستارہ امتیاز)نے کی جبکہ مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر عمر اعظم خان تھے۔تقریب میں مسٹ یونیورسٹی کے رجسٹرارڈاکٹرخضرالحق، ڈائریکٹرفنانس پروفیسرڈاکٹر محمدخلیق، ڈین انجینئرنگ ڈاکٹرحسن جعفری، ڈین فیکلٹی آف وینٹری سائنس ڈاکٹرسعادت ڈار، ڈین سوشل سائنسز تحسین غوث، ڈین فیکلٹی آف سائنس ڈاکٹرعزیز، ڈائریکٹرسٹوڈنٹس آفیئرزڈاکٹرالطاف،شاہدامین، ڈائریکٹرسپورٹس عابد حسین،ڈائریکٹرمحسن ظفر،ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ،ڈین،فیکلٹی ممبران،طلباء و طالبات نے شرکت کی۔تقریب میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے قومی ترانے پیش کیے گئے جبکہ سیمینار سے طلباء وطالبات نے تحریک آزادی کشمیر،مسئلہ کشمیرکے حوالے سے تقاریرکیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلرمسٹ ڈاکٹر یونس جاوید(ستارہ امتیاز)نے کہاکہ ہم خوش نصیب ہیں جوخطہ میں آزادی کی سانسیں لے رہے ہیں اور اپنی تمام اسلامی روایات اور عبادات بھی بھرپورطریقے سے اداکررہے ہیں اس کے بدلے مقبوضہ ریاست جموں وکشمیرمیں کشمیری بھائیوں کواپنی مذہبی رسومات اداکرنے سمیت مساجد میں جانابھی بھارتی فوج نے محال کررکھاہے۔ انھوں نے کہاکہ پاکستان کے قیام کے لیے قائداعظم محمدعلی جناحؒ کی قیادت میں ہمارے لیڈروں نے بے مثال قربانیاں دیں،قیام پاکستان کے بعد پاکستان کشمیریوں کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑاہے اور مقبوضہ ریاست جموں وکشمیرکے عوام کے حق خودارادیت کے لیے ہرسطح پرسیاسی وسفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور مسئلہ کشمیرکی وجہ سے پاک بھارت تین جنگیں بھی ہوچکی ہیں۔ مسئلہ کشمیرکی وجہ سے ہی آج پاکستان دنیامیں ایٹمی طاقت ہے۔ انھوں نے کہاکہ بھارت خودمسئلہ کشمیرکواقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کرگیاتاہم کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول میں نہ صرف رکاوٹیں پیداکی گئیں بلکہ اس کے بدلے بھارت نے اپنی دس لاکھ فوج کے ذریعے لاکھوں کشمیریوں کوشہیدکررہاہے اورپیلٹ گن کے ذریعے کشمیریوں کو بصارت سے محروم کررہاہے۔انھوں نے طلباء وطالبات سے کہاکہ وہ مسئلہ کشمیراور تحریک آزادی کشمیرکے لیے جدوجہدمیں شامل کشمیریوں کے مشن کو آگے لے کرجائیں اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کی قربانیوں کی آواز بنیں۔جب تک ایک بھی کشمیری زندہ ہے اس وقت تک مسئلہ کشمیر ختم ہونے کاسوال ہی پیدانہیں ہوتا۔ انھوں نے اس عزم کااظہارکیاکہ مقبوضہ ریاست جموں وکشمیرجلد آزاد ہوکرپاکستان کاحصہ بنے گی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنرڈاکٹرعمراعظم نے کہاکہ 05 جنوری 1949 کادن ریاست جموں وکشمیرکی تاریخ میں نہایت ہی اہمیت کاحامل ہے اس دن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیریوں کے مسلمہ حق خودارادیت کوتسلیم کرتے ہوئے کشمیریوں کے مستقبل کافیصلہ رائے شماری کے ذریعے کرنے کافیصلہ کیاتھالیکن اس مسئلہ کے حل میں 75 سال گزرگئے اقوام متحدہ کے چارٹرپرمسئلہ کشمیر سب سے پراناحل طلب مسئلہ ہے۔ اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کو مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں بھارت کی طرف سے ہونے والی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیکر اس اہم مسئلہ کے حل کے لئے سنجیدہ کوششیں کرنی چائیں تاکہ جنوب ایشیاء میں بسنے والے کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جاسکے۔اگر عالمی طاقتوں نے اس مسئلہ کا پر امن اور دیرپا حل نہ نکالا تو جنوب ایشیاء خوفناک تباہی کا شکار ہو جائے گا۔ مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر میں بھارت کشمیریوں پرظلم وجبراور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی انتہاکرچکا ہے۔ انھوں نے طلباء وطالبات سے کہاکہ وہ مسئلہ کشمیر اورتحریک آزادی کشمیرکواجاگرکرنے کے لیے سوشل میڈیاسمیت دیگرتمام ذرائع بروئے کارلائیں تاکہ کشمیریوں کی آواز کوبین الاقوامی سطح پربلند کیاجاسکے اور مسئلہ کشمیرکے حل کے لیے عالمی رائے عامہ کوہموارکیاجاسکے۔